ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / اُڈپی کا جو شخص بی جے پی کی لسٹ میں مرچکا ہے، وہ ا صل میں آج بھی زندہ ہے

اُڈپی کا جو شخص بی جے پی کی لسٹ میں مرچکا ہے، وہ ا صل میں آج بھی زندہ ہے

Sun, 06 May 2018 13:24:12    S.O. News Service

اُڈپی 5مئی (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) کرناٹک انتخابات میں بی جے پی نے کانگریس پر بڑا الزام یہ لگایا ہے کہ پانچ سال کے ان کے دور حکومت میں مبینہ ’جہادی‘ طاقتوں نے ان کے پارٹی کے 23 کارکنوں کا قتل کیا ہے ۔ اس صورت میں اڈپی سے بی جے پی کے رہنما شوبھاکرند لاجے نے وزارت داخلہ کو خط لکھ کر ان 23 لوگوں کے نام بھیجے تھے جن کا قتل کرناٹک میں کردیا گیا ہے ۔

بی جے پی کی اس فہرست میں سب سے پہلا نام اشوک پجاری کا آتا ہے، جس کا قتل ان کی فہرست کے مطابق 20 ستمبر 2015 کو ہواتھا؛ لیکن طرفہ تماشا یہ ہے کہ پجاری آج بھی زندہ ہے۔ این ڈی ٹی وی نے پجاری سے اس کے گاؤں جاکر ملاقات کی۔ پجاری کا گاؤں اڈپی میں ہے ۔ پجاری بجرنگ دل کا کارکن ہے ؛لیکن دوسری طرف بی جے پی کی یہ دلیل ہے کہ ان پر 2015 میں چھ افراد نے حملہ کیا تھا جو موٹر سائیکل پر سوار تھے۔ انہوں نے پجاری پر اس  لیے حملہ کیاتھا؛ کیونکہ وہ ہند و شدت پسند تنظیم سے منسلک تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملزمان نے ان کی شناخت ان کے سر پر بندھے ہوئے بھگوا   کپڑے  سے کی تھی جب وہ کام سے گھر واپس لوٹ رہا تھا۔

واضح رہے  کہ اشوک پجاری شادیوں میں ڈھول بجانے کا کام کرتا ہے۔ پجاری نے بتایا کہ میں 15 دن آئی سی یو میں رہا اور بی جے پی نے یہ مان لیاکہ میں مر چکا  ہوں؛لیکن بھگوان کا شکر ہے کہ میں زندہ ہوں ۔ انہوں نے بتایا کہ شوبھا کرند لاجے کا فون انہیں  آیا تھا اور انہوں نے تسلیم کیا تھا کہ غلطی سے اس کا نام ہلاک شدگان کی فہرست میں درج ہوگیا ہے ۔ لیکن بی جے پی آج بھی دعوی کرتی ہے کہ اس کے 23 کارکنوں کا قتل کیا گیا ہے۔ کرناٹک  کی اسمبلی انتخابی  مہم کے دوران نریندر مودی نے کہا تھا کہ دو درجن سے زیادہ  ہمارے کارکنوں کا قتل کیا گیا ہے۔وہیں ریاستی حکومت نے ان دعووں کو مسترد کر دیا تھا،  جس میں کہا گیا کہ 23 میں سے 14 کارکنوں کی موت میں کسی مسلم حملہ آوروں کا کچھ لینا دینا نہیں تھا، یہ محض ان کی تقسیم اور منافرت آمیز سیاست کا حصہ ہے۔ کچھ کی موت آپسی ذاتی دشمنی اور کچھ کی موت خود کشی کی وجہ سے بھی ہوئی ہے ۔

اس تعلق سے جب این ڈی ٹی وی کے نمائندے نے  وشو ہندو پریشد کے ضلعی صدر جگدیش سینوا سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ بی جے پی جھوٹے دعوے نہیں کر رہی ہے۔ اگر لسٹ میں اس کا نام ہے تو یہ بالکل درست ہے ۔لیکن اشوک پجاری کے زندہ ہونے کی بات اُن سے پوچھی گئی تو  انہوں نے یہی کہا آپ کو جو انفارمیشن دی گئی ہے، وہ صحیح نہیں ہے، لیکن  ہم جھو  ٹ نہیں بول رہے ہیں۔


Share: